بسم اللہ الرحمن الرحیم

مسلمانوں کی پستی کا واحد علاج

          الحمد للہ رب العالمین وصلاۃ وسلام علیٰ سید اولین ولآخرین خاتم الانبیا ول مرسلین محمد و آلہ واصحابہ  تیبین و طاہرین۔

          آج سے تقریباً چودہ سو سال قبل جب دنیا کفر و ذلالت، و جہالت و صفاحت کی تاریکیوں میں گھری ہوئی تھی بتا کی سنگ لاکھ پہاڑیوں سے رشدو ہدایت کا مہتاب نمودار ہوا۔ اور مشرق و مغرب شمال و جنوب غرض دنیا کے ہر ہر گوشے کو اپنے نور سے منور کیا ۔ اور  ۳۲  سال کے قلیل عرسہ میں بنی نوع انسان کو اس معراج ترقی پر پہنچایا کہ تاریخ عالم اسکی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ رشدو ہدایت صلاح و فلاح کی وہ مشعل مسلمانوں کے ہاتھ میں دی جس کی روشنی میں ہمشہ شارح ترقی پر گامزن رہے۔ اور صدیوں اس شان و شوکت سے دنیا پر حکومت کی کہ ہر مخالف قوت کو ٹکرا کر پاش پاش ہونا پڑا۔ یہ ایک حقیقت ہے جو ناقابل انکار ہے۔ لیکن پھر بھی ایک پرانی داستان ہے۔ جس کو باربار دہرانہ نا تسلی بخش ہے اور نا کارآمد اور مفید۔ جب کہ موجودہ مشاہدات اور واقعات خود ہماری سابقہ زندگی اور ہمارے اسلاف کے کارناموں پر بدنما داغ لگا رہے ہیں۔

          مسلمانوں کہ  چودہ سو سال زندگی کو جب تاریخ کے اوراق میں دیکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ عزت و عظمت شان و شوکت دبدبہ و حشمت کے تنہا مالک اور اجرے دار ہیں۔لیکن جب ان اوراق سے نظر ہٹاکر موجودہ حالت کا مشاہدہ کیا جاتا ہے تو ہم انتہائی ذلت و خواری افلاس و ناداری نہ زور و قوت ہے نہ زور و دولت ہے ۔ نہ شان و شوکت ہے۔ نہ باہمی عقبت و عفت ۔ نا عادات اچھی نا اخلاق اچھے۔ نا اعمال اچھے نا کردار اچھے۔ ہر برائی ہم میں موجود۔ اور ہر بھلائی سے کوسو دور۔ اغیار ہماری زباں حالی پر خوش ہیں۔ اور برملہ ہماری کمزوریوں کو اچھالا جاتا ہے۔ اور ہمارا مزاق اڑایا جاتا ہے۔ اسی پر بس نہیں بلکہ خود ہمارے جگر گوشے تہذیب کے دلدادہ نوجوان اسلام کے مقدس اصولوں کا مزاق اڑاتے ہیں۔بات بات پر تنقید کی نظر ڈالتے ہیں اور اس مقدس شریعت کو ناقابل عمل لغو اور بےکار گردانتے ہیں۔ عقل حیران ہے جسنے دنیا کو سیراب کیا ۔ وہ آج کیوں پیاسی ہے۔ جس قوم نے دنیا کو تہذیب کا سبق پڑھایا وہ آج کیوں غیر مہذب اور غیر متنبہ ہے۔

          رہنمائے قوم نے آج سے بہت پہلے حالت زار کا اندازہ لگایا۔ او ر مختلف طریقوںپر ہماری اصلاح کے لئے جدہ جہد کی۔

  ’’مرز بڑھتا گیا جیوں جیوں دوا کی ‘‘ 

          آج جب کہ حالت بد سے بدتر ہو چکی ۔ اور آنے والا زمانہ سابق سے بھی زیادہ پر خطر اور تاریک نظر آرہا ہے۔ ہمارا خاموش بیٹھنا اور عملی جدوجہد نہ کرنا ایک ناقابل تلافی جرم ہے ۔ لیکن اس سے پہلے کہ ہم کوئی عملی قدم اٹھائیں ضروری یہ ہے کہ ان اسباب پر غور کریںجن کے باعث ہم اس ذلت و خواری کے عذاب میں مبتلہ کئے گئے ہیں۔ ہماری اس پستی اور انتہائی گراوٹ کے مختلف اسباب بیان کئے جاتے ہیں۔ اور انکی متعدد تدبیریں تیا ر کی کئی ہیں۔ لیکن ہر  تدبیر نا موافق اور ناکام ثابت ہوئی۔ جس کے باعث ہمارے رہبر بھی یاس و حراس میں گھرے نظر آتے ہیں۔

          اصل حقیقت یہ ہے اب تک ہمارے مرض کی تشخیص ہی پوری طور پر نہیں ہوئی۔ یہ جو کچھ اسباب بیان کئے جاتے ہیں اصل مرض نہیں بلکہ اس کے عوارض ہیں۔ پس تا وقت کہ اصل مرض کی جانب توجہ نا ہوگی اور مادہ حقیقت کی اصلاح نا ہوگی عوارض کی اصلاح نا ممکن اور محال ہے۔ پس جب تک کہ ہم اصل مرض کی ٹھیک تشخیص اور صحیح علاج نا معلوم کرلیں ہمارے علاج کے بارے میں لب کشائی کرنا خطرناک غلطی ہے۔ ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ ہماری شریعت ایک مکمل قانون الٰہی ہے۔جو ہماری دینی اور دنیا وی فلاح و بہبود کا تا قیامت زمانت ہے پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم کوئی اپنا مرض تشخیص کریں پھر اسکا علاج شروع کر دیں۔ بلکہ ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم قرآن حکیم سے اپنا اصل مرض معلوم کریں اور اسی مرکز رشدو ہدایت سے تاریک علاج معلوم کر کے اس پر کار بند ہوں۔ جب قرآن حکیم قیامت تک کے لئے مکمل دستور عمل ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس نازک حالت میں ہماری رہبری سے قاصر رہے۔

          ترجمہ  :        ’’مالک ارض و سماں حق جل جلالہً کا  سچا وعدہ ہے کہ روئے زمین کی بادشاہت مومنوں کے لئے ہے۔ ‘‘                                                      (سورۃ   نور ۔ آیت نمبر  ۷)

          ترجمہ:                  ’’ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے تو ان کو ضرور روئے زمین کا خلیفہ بنایا جائے گا۔‘‘           (سورۃ         قد افلحہ۔  رکوع  ۳۱)

          ترجمہ:                  ’’ اور یہ بھی اتمنان دلایا کہ مومن ہمیشہ کفار پر غالب رہیں گے اور کفار کا کوئی یارو مددگار نہ ہوگا۔‘‘                                                                  (سورۃ  فتح۔  آیت  ۲)

          ترجمہ:                  ’’اور اگر تم سے یہ کافر لڑتے تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگتے پھر نہ پاتے کوئی یارو مددگار۔ ‘‘

                                                                   (پارہ  ۶۲ ۔  رکوع  ۱۱)

          ترجمہ:        ’’ اور مومنوں کی نصرت و مدد اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور وہی ہمیشہ سر بلند رہیں گے۔‘‘ 

                                                                   (الروم۔  آیت   ۵)

          ترجمہ :       ’’اور حق ہے ہم پر مدد ایمان والوں کی۔‘‘              (آل عمران ۔  آیت  ۴۱)     

          ترجمہ :       ’’ اور اللہ ہی کی عزت اور اسکے رسول  ؐ  کی اور مسلمانوں کی۔‘‘

                                                                   (سورۃ  منافقین)

          مزکورہ بالہ ارشادات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی عزت شان و شوکت سر بلندی و سرفرازی ،اور برتری و خوبی انکی صفت ایمان کے ساتھ وابستہ ہے۔ اگر انکا تعلق خدا اور رسول کے ساتھ مستحکم ہے (جو ایمان کا مقصود ہے۔)  تو سب کچھ ان کا ہے اور خدا نا خاستہ اس راستہ تعلق میں کمی اور کمزوری پیدا ہو گئی تو پھر سراسر نقسان و ذلت و خواری ہے۔ جیسا کہ بعض تور پر بتلادیا گیا ہے۔

          ترجمہ:        ’’قسم ہے زمانے کی انسان بڑے خسارے میں ہے مگر جولوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی فہمائش کرتے رہے اور ایک دوسرے کو پابندی کی فہمائش کرتے رہے۔‘‘

                                                                   (سورۃ  ۔  عصر)

          ہمارے اسلاف منتہا کو پہونچے ہوئے تھے اور ہم انتہائی ذلت و خواری میں مبتلہ ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ وہ کمال ایما ن سے شرابور تھے اور ہم اس نعمت عزمیٰ سے محروم ہےں۔ جیسا کہ صادق  ؐ  نے خبر دی ہے :۔

           ’’ قریب ہی ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ اسلام کا صرف نام ہی باقی رہ جائے گا اور قرآن کے صرف نقوش ہی۔‘‘

          اب غور طلب امر یہ ہے کہ اگر وقعی ہم اس حقیقی اسلام سے محروم ہو گئے جو خدا اور  ؐ  سے یہاں مطلوب ہے جس کے ساتھ ہماری دین و دنیا کی فلاح و بہبود وابستہ ہے تو کیا ذریعہ ہے جس سے ہماری کھوئی ہوئی نعمت واپس آئے ۔ اور کیا اسباب ہیں جس کی وجہ سے ہماری رح اسلام نکال لی گئی اور ہم جسد بےجان رہ گئے؟

          جب مصحف آسمانی کی تلاوت کی جاتی ہے اور امت محمدیہ  ؐ  کی فضیلت اور وجہ ڈھونڈی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس امت کو ایک اعلیٰ اور برتر کام سپرد کیا گیا تھا جس کی وجہ سے خیرالامم کا معزز خطاب اسکو عطا کیا گیا۔

          دنیا کی پیدائش کا مقصد اصلی خدا ئے وحدہ لا شریکہ لہ  کی ذات و صفات کی معرفت ہے اور یہ اس وقت تک نا ممکن ہے جب تک بنی نوع انسان کو برائیوں اور گندگیوں سے پاک کرکے بھلائیوں اور خوبیوں کے ساتھ آراستہ نہ کیا جائے۔ اسی مقصد کے لئے ہزاروں رسول اور نبی بھیجے گئے۔ اور آخر میں اس مقصد کی تکمیل کے لئے سیدلانبیا والمرسلین کو مبعوث فرمایا ۔

          اب چونکی مقصد کی تکمیل ہو چکی تھی، ہر بھلائی اور برائی کو کھول کھول کر بیان کر دیا گیا تھا، ایک مکمل نظام عمل دیا جا چکا تھا، اس لئے رسالت اور نبوت کے سلسلے کو ختم کر دیا گیا اور جو کام پہلے نبی اور رسول سے لیا جاتا تھاوہ قیامت تک امت محمدیہ کے سپرد کر دیا گیا۔

          ترجمہ:        ’’اے امت محمدیہ !  تم افضل امت ہو تم کو لوگوں کے نفع کے لئے بھیجا گیا ہے، تم بھلی باتوں کو لوگوں کو پھیلاتے ہواور بری باتوں سے ان کو روکتے ہو۔ اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘

                                                                   ٰل عمران ۔  رکوع  ۲۱)

          ترجمہ:        ’’  اور چاہئے کہ تم میں ایسی جماعت ہو کہ لوگوں کو خیر کی طرف بلائے، اور بھلی باتوں کا حکم کرے اور بری باتوں سے منع کرے۔ اور وہی لوگ فلاح والے ہیں جو اس کام کو کرتے ہیں۔

                                                                   ٰل عمران۔  رکوع  ۱۱)

          پہلی آیت میں  خیر امم  ہونے کی وجہ یہ بتلائی گئی کہ تم بھلائی کو پھیلاتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔ دوسری آیت میں زور دے کر فرمادیا کہ فلاح و بہبود صرف انہیں لوگوں کے لئے ہے جو اس کام کو انجام دے رہے ہیں۔ اسی پر بس نہیں کہ دوسری جگہ صاف طور پر بیان کر دیا گیا کہ اس کام کو انجام نا دینا لعنت اور پھٹکار کا موجب ہے۔

         

          ترجمہ:        ’’بنی اسراعیل میں جو لوگ کافر تھے ان پر لعنت کی گئی تھی، دائود  و  عیسیٰ بن مریم کی زباں سے۔‘‘  یہ لعنت اس سبب سے ہوئی کہ انہونے حکم کی مخالفت کی اور حد سے نکل گئے۔ جو برا کام انہوں نے کر رکھا تھا اس سے باض نا آتے تھے۔ واقعی انکا یہ فعل بےشک برا تھا۔ ‘‘

                                                          (سورۃ  مائدہ۔  آیت  ۱۱)

          اس آخری آیت کی مزید وضاحت احادیث ذیل سے ہوتی ہے۔

          ترجمہ:        ’’ حضرت عبد اللہ بن مسعو د  ؓ  سے روایت ہے کہ رسول  خدا  ؐ  نے ارشاد فرمایا کہ تم سے پہلی امت میں جب کوئی خطا کرتا تو روکنے والا اس کو دھمکاتا اور کہتا کہ خدا سے ڈر ،  اگلے ہی دن اس کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا،  کھاتا پیتا  گویا کل اسکو گناہ کرتے ہوئے دیکھا ہی نہیں۔جب اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ برتائو دیکھا تو بعض کے قلوب (دل)  کو بعض کے ساتھا خلط  (ملا)  کر دیا۔ اور ان کے نبی دائود  اور عیسیٰ بن مریم کی زبانی ان پر لعنت کی اور یہ اس لئے کہ انہوں نے خدا کی نافرمانی کی اور حد سے تجاوز کیا۔

         

          ترجمہ:        ’’ تم میں سے جب کوئی شخص برائی کو دیکھے تو چاہئے کہ اپنے ہاتھوں سے کام لے کر اس کو دور کرے۔ اور اگر اسکی طاقت نہ پائے تو زبان سے ،  اور اگر اسکی بھی طاقت نہ پائے تو دل سے اور یہ آخری صورت ایمان کی بڑی کمزوری کا درجہ ہے۔‘‘

          پس جس طرح آخری درجہ سب سے کم کا ہوا اسی طرح پہلا درجہ کمال دعوت اور کمال ایمان کا ہوا۔ اس بھی واضح تر حدیث ابن مسعود  ؓ  کی ہے۔

          ترجمہ:        ’’ سنت الٰہی ( اللہ تعالیٰ کی صفت)  یہ ہے کہ ہر نبی اپنے ساتھیوں اور تربیت یافتہ یاروں کی ایک جماعت چھوڑ جاتا ہے۔ یہ جماعت نبی کی سنت کو قائم رکھتی ہے اور ٹھیک ٹھیک اسکی پیروی کرتی ہے۔ اور یعنی شریعت الٰہی کو جس حال اور جس شکل میں نبی چھوڑ گیا ہے اسکو اسی حال میں محفوظ رکھتے ہیں۔ اور اس میں زرا بھی فرق نہیں آنے دیتے۔ لیکن اس کے بعد شر  و  فتنہ کا دور آتا ہے اور ایسے لوگ پیدا ہو جاتے ہیں جو طریقہ نبوی سے ہٹ جاتے ہیں۔ ان کا فعل انکے دعوے کے خلاف ہوتا ہے اور ان کے کام ایسے ہوتے ہیں جن کے لئے شریعت نے حکم نہیں دیا۔ سو ایسے لوگوں کے خلاف جس شخص نے قیام حق و سنت کی راہ میں اپنے ہاتھ سے کام لیا وہ مومن ہے اور جو ایسا نا کرسکا مگر زبان سے کام لیا وہ بھی مومن ہے۔ اور جس سے یہ بھی نہ ہو سکا اور دل کے ثبات (جھکائو)  کو انکے خلاف کوم میں لایا وہ بھی مومن ہے۔ لیکن اس آخری درجہ کے بعد ایمان کا کوئی درجہ نہیں۔اس پر ایمان کی سرحد ختم ہو جائی ہے۔ حتاکہ اب رائی کے برابر بھی اب ایمان نہیں ہو سکتا۔

          اس کام کی اہمیت اور ضرورت کو امام غزالی  ؒ  نے اس طرح ظاہر فرمایا ہے۔ 

          اس میں کچھ شک نہیں کہ امر بالمعروف اور نہیں انل مکر (بھلائی کا حکم اور برائی سے روکنا)  دین کا ایسا زبردست رکن ہے جس سے دین کی تمام چیزیں وابستہ ہیں اس کو انجام دینے کے لئے حق تعالیٰ نے تمام انبیائے کرام کو مبعوث فرمایا۔  اگر خدا نا خواستہ اس کو بالائے طاق  ھوڑ دیا ) رکھ دیا جائے۔ اور علم و عمل کو ترک کر دیا جائے تو نعوذباللہ نبوت کا بے کار ہونا لازم آئے گا۔ دیانت جو شرافت انسانی کا خاصا ہے کمزور اور ملیا میٹ ہو جائے گی۔ اور کاہلی اور سستی عام ہو جائےگی۔ گمراہی اور ذلالت کی شعراحیں کھل جائیں گی۔ آپس میں پھوٹ پڑ جائے گی ۔ آبادیاں خراب ہو جائےں گی۔ مخلوق تباہ و برباد ہوجائےگی۔ اس وقت خبر ہوگی جب روز محشر خدائے بالہ و برتر کے سامنے پیشی و باز پر س ہوگی ۔

          افسوس سد افسوس جو خطرہ تھا سامنے آ گیا جو کھٹکا تھا آنکھوں نے دیکھ لیا۔